امریکا نے جرمنی سے تقریباً 5 ہزار فوجیوں کے انخلا کا اعلان کردیا ہے، یہ فیصلہ ایران کے خلاف جنگ کے معاملے پر یورپی اتحادیوں کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق یہ انخلا آئندہ 6 سے 12 ماہ کے دوران مکمل کیا جائے گا۔ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنل نے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ یورپ میں امریکی افواج کی پوزیشن کے جائزے کے بعد کیا گیا ہے، جو زمینی حالات اور آپریشنل ضروریات کے مطابق ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں یورپی اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگی کوششوں میں خاطر خواہ تعاون نہیں کر رہے۔ انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ ایسے ممالک سے فوجیں واپس بلائی جاسکتی ہیں جو مطلوبہ حمایت فراہم نہیں کررہے۔
دوسری جانب جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریس نے کہا ہے کہ برلن کو ممکنہ امریکی انخلا کا اندازہ تھا اور یورپ کو اپنی سیکیورٹی کے لیے مزید ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے، اسلحہ کی خریداری تیز کرنے اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کررہا ہے۔
یاد رہے کہ بیشتر یورپی ممالک نے ایران کے خلاف امریکی جنگ میں براہِ راست شرکت سے گریز کیا ہے جبکہ بعض رہنماؤں نے امریکی کارروائیوں پر کھل کر تنقید بھی نہیں کی، حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت ان حملوں کو متنازع قرار دیا جارہا ہے۔