ایران کی پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر علی نیکزاد نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اب پہلے جیسی نہیں رہے گی اور ایران اس اہم گزرگاہ پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صوبہ ہرمزگان کے حکام اور سیکیورٹی فورسز کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز کو اپنی شرائط پر کھلوانے میں ناکام رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ ناکہ بندی کی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوگی۔
علی نیکزاد نے مزید کہا کہ اسرائیلی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق دیگر ممالک کے جہاز ایران کی اجازت سے اس گزرگاہ سے گزر سکیں گے۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب کے ترجمان نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فیصلہ سازی کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں ناممکن فوجی کارروائی اور ایک مشکل معاہدے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے بھی امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو آبنائے ہرمز کو امریکی بحریہ کے لیے ”قبرستان“ بنا دیا جائے گا۔