پنجاب بلئیرڈ اینڈ اسنوکر ایسوسی ایشن نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران کلبس کی جلد بندش اور مالکان کے خلاف مقدمات کے اندراج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کو باضابطہ درخواست ارسال کردی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسنوکر واحد کھیل ہے جس نے عالمی سطح پر پاکستان کو سب سے زیادہ میڈلز جتوا کر دیے ہیں، لیکن موجودہ پابندیوں کے باعث اس کھیل کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق پنجاب میں بلئیرڈ اور اسنوکر کی سرکاری اکیڈمیز نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے نوجوان پلیئرز اپنی پریکٹس کے لیے نجی اسنوکر کلبس پر انحصار کرتے ہیں۔ رات آٹھ بجے کلبس کی بندش سے کھلاڑیوں کی تیاری بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جبکہ لاہور تین ماہ بعد 'پنجاب اسنوکر کپ' کی میزبانی بھی کرنے جا رہا ہے۔
ایسوسی ایشن نے اپیل کی ہے کہ اسنوکر کلبس کو آٹھ بجے کاروبار بند کرنے کی پابندی سے استثنیٰ دیا جائے تاکہ کھلاڑی بلا تعطل اپنی پریکٹس جاری رکھ سکیں۔