پاکستانی نژاد برطانوی گل طارق ہیوی بائیک پر طویل اور پُرخطر سفر طے کرکے اپنے آبائی وطن پاکستان پہنچ گئیں۔
اسلام آباد میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے گل طارق نے بتایا کہ برطانیہ سے پاکستان تک کا سفر ان کے لیے ایک منفرد اور یادگار تجربہ رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مہم کا مقصد خواتین کو تنہا بائیکنگ کے لیے حوصلہ دینا تھا۔
گل طارق کے مطابق انہوں نے سفر سے قبل بائیک کی مینٹیننس سیکھنے کے ساتھ مکمل تیاری کی، تاہم راستے میں انہیں روزانہ نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف موسم، دشوار گزار راستے، پہاڑی علاقے اور طویل فاصلے اس سفر کے بڑے امتحان تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ برطانیہ سے روانہ ہو کر فرانس، سوئٹزرلینڈ، اٹلی، یونان، بلغاریہ اور ترکی سے گزریں، تاہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ایران کا بارڈر بند ہونے پر انہیں اپنا روٹ تبدیل کرنا پڑا۔ انہوں نے بلغاریہ میں بائیک پارک کرکے پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا اور بعدازاں کراچی پہنچ کر لاہور تک بائیک کا سفر مکمل کیا۔
گل طارق کا کہنا تھا کہ محفوظ طریقے سے لاہور پہنچنا ان کا سب سے بڑا مقصد تھا جبکہ حالات بہتر ہونے پر وہ ایران کے راستے اپنا ادھورا سفر مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ آئندہ سال بین الاقوامی بائیکرز کو پاکستان لانے کی منصوبہ بندی کررہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خواتین ہمت کریں تو بائیک پر دنیا کا سفر کرنا مشکل نہیں۔