کراچی میں جاری قیامت خیز گرمی کی لہر نے مختلف علاقوں میں 8 افراد کی جان لے لی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں تین افراد نشے کے عادی تھے جو گرمی میں نشے کی زیادتی کے باعث دم توڑ گئے جبکہ دیگر اموات ہیٹ اسٹروک اور لو لگنے کی وجہ سے ہوئیں۔
شہر کے مختلف مقامات سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے، جن میں منگھوپیر صائمہ عربین ولاز، گلشنِ حدید، کلفٹن بوٹ بیسن، لیاقت آباد 10 نمبر پل، سپرہائی وے جمالی پل اور ڈیفنس فیز 8 شامل ہیں۔
سرجانی اسکیم 33 سے ملنے والی لاش کی شناخت 50 سالہ در محمد کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ بلدیہ سپارکو روڈ پر 55 سالہ عبدالودود کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
ریسکیو حکام کا بتانا ہے کہ بلدیہ میں ایک شخص نماز کی حالت میں ہیٹ اسٹروک کا شکار ہو کر جاں بحق ہوا۔
اس کے علاوہ، شہر کے مختلف علاقوں سے چار افراد کو انتہائی تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
طبی ماہرین اور ریسکیو اداروں نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے اور پانی کا زیادہ استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔