محکمہ موسمیات نے رواں سال مئی، جون اور جولائی کے لیے موسمیاتی آؤٹ لک جاری کرتے ہوئے ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف موسمی اثرات کی پیشگوئی کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی علاقوں میں معمول سے کم بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث خریف کی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ بارانی علاقوں میں فصلوں کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بالائی علاقوں میں اضافی بارشوں کے باعث آبی ذخائر میں بہتری کی توقع ہے، تاہم شمالی علاقوں میں شدید بارشوں کے نتیجے میں فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔
پیشگوئی میں کہا گیا ہے کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے، جبکہ جنوبی پنجاب اور سندھ میں ہیٹ ویو کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ، آندھی، گرد آلود طوفان اور ژالہ باری جیسے موسمی واقعات بھی پیش آ سکتے ہیں، جن سے فصلوں، انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ نظام متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں درجہ حرارت بڑھنے سے برف پگھلنے کی رفتار تیز ہونے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیئرز سے متعلق خطرات اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہوسکتی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ زیادہ درجہ حرارت کے باعث کیڑوں اور بیماریوں میں اضافہ جبکہ فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ ڈینگی سمیت ویکٹر سے پھیلنے والی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔