مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر خواجہ سعد رفیق نے اسلام آباد کے ون کانسٹیٹیوشن پروجیکٹ میں شراکت داری اور اپارٹمنٹس کی مبینہ ملکیت سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جھوٹا پروپیگنڈا جاری رہا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اپنے وضاحتی بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وہ ون کانسٹیٹیوشن منصوبے میں اپارٹمنٹس کے مالک یا سرمایہ کار ہیں، حالانکہ اس منصوبے میں نہ ان کا کوئی اپارٹمنٹ ہے اور نہ ہی ان کے خاندان کے کسی فرد کی کوئی سرمایہ کاری شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے 9 اپریل کو ایک صحافی کی ٹویٹ کے جواب میں بھی وضاحت کر چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود بعض عناصر کی جانب سے یہ مہم جاری رکھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق الزامات لگانے والوں میں پی ٹی آئی کے کچھ کلٹ فالورز شامل ہیں، جو ان کے بقول اپنے سوا باقی سب کو کرپٹ اور جھوٹا سمجھتے ہیں۔
سعد رفیق کا کہنا تھا کہ بعض مخالفین اور آن ڈیوٹی اکاؤنٹس بھی اس مہم کا حصہ ہیں، جنہیں اس بات پر اعتراض ہے کہ وہ پی ٹی آئی مخالف انتقامی مہم کی حمایت کیوں نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک سے چلائے جانے والے جعلی اکاؤنٹس اور بوٹس بھی ریاستی اداروں اور محب وطن افراد کو بدنام کرنے میں مصروف ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ون کانسٹیٹیوشن منصوبے میں ان یا ان کے خاندان کی کوئی ملکیت یا سرمایہ کاری نہیں، تاہم ان کے کچھ جاننے والوں کے اپارٹمنٹس ضرور موجود ہیں، جن کی سرمایہ کاری ان کا ذاتی معاملہ ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں حکومت کو چاہیے کہ سی ڈی اے کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تلافی کے لیے تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ اپارٹمنٹس کے ان مالکان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے جنہوں نے تصدیق شدہ طور پر مکمل ادائیگیاں کر رکھی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں پلاٹ کی قیمت ادا نہ ہونے کے باوجود تعمیر اور فروخت نہ روکنے والے ریگولیٹرز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ امید ہے حکومت تمام فریقین کے ساتھ انصاف کرے گی اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس وضاحت کے بعد بھی اگر کسی جانب سے جھوٹا پروپیگنڈا جاری رکھا گیا تو وہ قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔