2025 میں پاکستان میں 470 خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں، انسانی حقوق پر سالانہ رپورٹ جاری

image

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر سال 2025 کی ایک تفصیلی رپورٹ نے ملک کے کئی اہم شعبوں میں بگڑتی ہوئی تصویر سامنے رکھ دی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اس سالانہ جائزے میں واضح کیا گیا ہے کہ شہری آزادیوں، تحفظ اور مساوات کے میدان میں پیش رفت سست رہی جبکہ بعض شعبوں میں حالات مزید خراب ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی درجہ بندی خاصی کمزور رہی۔ بنیادی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے ملک 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر رہا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قانون کی حکمرانی اور شہری تحفظ جیسے بنیادی عناصر ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکے۔ اسی طرح گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس میں پاکستان 148 ممالک میں سے 145ویں نمبر پر رہا جو خواتین کے حقوق، مواقع اور سماجی تحفظ کے حوالے سے ایک تشویشناک اشارہ ہے۔

خواتین کے خلاف جرائم کے حوالے سے اعداد و شمار مزید پریشان کن ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ صنفی بنیادوں پر تشدد کے واقعات میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا۔ گھریلو تشدد کے نتیجے میں ایک ہزار 332 خواتین قتل ہوئیں جبکہ ریپ کے 3 ہزار 815 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ہراسگی بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی، جہاں 2 ہزار 586 خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں بھی کمی نہ آ سکی اور 470 خواتین اس جرم کا شکار ہوئیں۔

ملک کی سیکیورٹی صورتحال بھی رپورٹ کا اہم حصہ رہی۔ سال 2025 میں دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران 1 ہزار 272 واقعات پیش آئے جن میں مجموعی طور پر 3 ہزار 417 افراد جان سے گئے اور 2 ہزار 134 زخمی ہوئے۔ پولیس مقابلوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملک بھر میں 1 ہزار 155 انکاؤنٹرز میں 1 ہزار 696 افراد مارے گئے، جن میں سے صرف پنجاب کی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے 1 ہزار 128 مقابلوں میں 977 ہلاکتیں ہوئیں۔

جیلوں کی حالت بھی تشویشناک بتائی گئی جہاں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور اوور کراوڈنگ کی شرح 171 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں 21 ہزار 600 پاکستانی شہری قید ہیں جن میں سے 738 افراد بھارت کی جیلوں میں موجود ہیں اور ان میں ماہی گیر بھی شامل ہیں۔

بچوں کے حوالے سے اعداد و شمار بھی کم تشویشناک نہیں۔ رپورٹ کے مطابق 3 ہزار 600 بچوں پر تشدد کے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ اغوا کے 1 ہزار 107 واقعات پیش آئے۔ 365 بچے لاپتہ قرار دیے گئے۔ کم عمری کی شادی کے 53 کیسز سامنے آئے جبکہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے 52 واقعات ایسے تھے جو فحش مواد سے جڑے ہوئے تھے۔

ٹرانس جینڈر کمیونٹی بھی عدم تحفظ کا شکار رہی۔ سال 2025 میں 19 افراد قتل کیے گئے جبکہ 2 پر تیزاب پھینکنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ 10 ٹرانس جینڈر افراد قتل ہوئے اور 13 کو جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا جو اس کمیونٹی کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ معاشی حالات کے باعث مزید لاکھوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے جس سے سماجی دباؤ اور عدم مساوات میں اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر یہ جائزہ ایک ایسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے جہاں سیکیورٹی، انصاف، اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو بہتر طریقے سے یقینی بنایا جا سکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US