پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے نائب صدر حافظ ذکاء اللہ زبیر اور چیف آپریٹنگ آفیسر شاہد کھوکھر نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پی ایف ایف کے وفد نے حالیہ فیفا کانگریس میں شرکت کی، جہاں تاریخ میں پہلی بار مختلف عالمی فیڈریشنز اور فیفا ورلڈ کپ کھیلنے والی ٹیموں کے حکام سے ملاقاتیں کی گئیں۔
انھوں نے کہا کہ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں سعودی عرب اور کینیڈا کی فیڈریشنز نے پاکستان فٹبال کو بھرپور سپورٹ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ فیفا اور اے ایف سی نے بھی پاکستان میں فٹبال کے فروغ کے لیے کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم ان کا اصرار ہے کہ پی ایف ایف کے معاملات میں تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔
نائب صدر حافظ ذکاء اللہ نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل معیار کی اکیڈمیز بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ویمنز ٹیم کی فیفا سیریز میں پہلی بار شرکت ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ الیکشن میں کسی قسم کی دھاندلی نہیں ہوئی اور تمام ممبران مشاورت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ فٹبال کو کسی ڈیڈ لاک سے بچایا جا سکے۔
اس موقع پر شاہد کھوکھر نے بتایا کہ پاکستان میں فیفا ارینا پچ دو سے تین ہفتوں میں تیار ہو جائے گی اور ملک میں جلد ساف چیمپئن شپ کے انعقاد اور نیشنل فٹبال لیگ کے اعلان کی بھی امید ہے۔
پریس کانفرنس میں صدر ہناکب فٹبال ایسوسی ایشن نوید اسلم خان لودھی نے بھی شرکت کی اور بتایا کہ چھ سال بعد اب تمام چیزیں مثبت انداز میں چل رہی ہیں، جس کے تحت ریفریز کی ٹریننگ اور پنجاب میں فٹبال کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
پی ایف ایف حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان کا فٹبال بہت پیچھے رہ گیا ہے جسے بہتر کرنے میں وقت لگے گا، تاہم ان کا اولین ہدف پاکستان ٹیم کو جنوبی ایشیا میں ایک مضبوط قوت کے طور پر منوانا ہے۔