وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاور سیکٹر سے متعلق اصلاحاتی اقدامات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ ملک کی مستقبل کی توانائی ضروریات کو قابل تجدید ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پن بجلی، شمسی توانائی اور بائیو گیس سمیت دیگر ذرائع سے بجلی کی پیداوار بڑھانے سے نہ صرف پیداواری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
وزیراعظم نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے اقدامات میں تیزی لانے اور بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے “اکنامک میرٹ آرڈر” کی خلاف ورزی پر بھی محکمانہ کارروائی یقینی بنائی جائے۔
اجلاس میں بجلی چوری والے علاقوں میں ٹرانسفارمرز پر اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے منصوبے کو تیز کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ نجی شعبے کو ویلنگ سسٹم کے تحت پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کے عمل کو بھی تیز کرنے پر زور دیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ترسیلی نظام کے نقصانات جون 2024 میں 18.3 فیصد سے کم ہو کر مارچ 2026 میں 15.3 فیصد تک آگئے ہیں، جبکہ بلوں کی وصولی کی شرح 90 فیصد سے بڑھ کر 96.46 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ تین تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے کی شمولیت پر کام جاری ہے اور اس سال نومبر میں بولی کا مرحلہ مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اسی طرح نقصان میں چلنے والے 2500 فیڈرز پر اسمارٹ میٹرز بھی نصب کیے جاچکے ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔