خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مولانا ادریس کے ٹارگٹ کلنگ کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تفتیش کاروں نے چار مشتبہ افراد میں سے ایک کی شناخت کرلی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق مشتبہ شخص کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے کی گئی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم کے افغان شہری ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔
تفتیشی حکام کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور مقامی پولیس پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم مختلف سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ملزم کے نیٹ ورک اور دیگر سہولت کاروں تک پہنچا جاسکے۔
ادھر واقعے کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاج اور شٹر ڈاؤن ہڑتالیں بھی کی گئیں۔
جمعیت علمائے اسلام کی اپیل پر صوابی میں احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور علماء کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔
چمن میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، جہاں تمام تجارتی مراکز بند رہے۔
چاغی کے مختلف علاقوں میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال دیکھنے میں آئی، جبکہ پارٹی کارکنان نے صورتحال کی نگرانی بھی کی۔
اسی طرح قلات میں بھی ہڑتال کی گئی، جہاں مدارس کی بندش، علماء کے ساتھ مبینہ ہراسانی اور مولانا ادریس کے قتل کے خلاف بازار بند رہے، جس سے معمولات زندگی متاثر ہوئے۔