دنیا سے جانے کا وقت خود چننا تحفے سے کم نہیں، ایپسٹین کا موت سے پہلے مبینہ آخری خط منظر عام پر

image

امریکا میں ایک وفاقی عدالت کی جانب سے ایک ایسا تحریری نوٹ جاری کیا گیا ہے جسے متنازع سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کا مبینہ آخری پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

بدھ کے روز سامنے آنے والے اس نوٹ میں ایک جملہ درج ہے کہ ”اپنے الوداع کا وقت خود چننا ایک الگ احساس ہوتا ہے۔“ اس دستاویز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ایک بار پھر ایپسٹین کی موت اور اس سے جڑے معاملات پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

جیفری ایپسٹین وہ امریکی سرمایہ کار تھا جس پر کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال جیسے سنگین مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ وہ اگست 2019 میں نیویارک کی مینہیٹن جیل میں مردہ پایا گیا تھا، جبکہ حکام نے اس کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ ہاتھ سے تحریر کیا گیا نوٹ ایپسٹین کے سابق سیل میٹ نکولس ٹارٹاگلیونے کو ملا تھا۔ نکولس ٹارٹاگلیونے ایک سابق پولیس افسر ہے جو اس وقت چار افراد کے قتل کے مقدمات میں مسلسل عمر قید کی سزائیں بھگت رہا ہے۔

امریکی ڈسٹرکٹ جج کینتھ کاراس نے اس نوٹ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے عوام کے لیے جاری کرنے کی اجازت دی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب نیویارک ٹائمز نے گزشتہ دنوں اس مبینہ نوٹ سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی۔

عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا کہ اس دستاویز کو خفیہ رکھنے کے لیے کوئی مضبوط قانونی بنیاد موجود نہیں۔ تاہم جج نے یہ واضح کیا کہ عدالت نے اس نوٹ کی صداقت یا اس کے عدالت تک پہنچنے کے طریقہ کار کی تصدیق نہیں کی۔

عدالتی دستاویزات میں شامل تصویر کے مطابق پیلے رنگ کے نوٹ پیڈ پر لکھی تحریر میں ایپسٹین نے دعویٰ کیا کہ کئی ماہ کی تفتیش کے باوجود حکام کو کچھ نہیں ملا، لیکن اس کے باوجود برسوں پرانے الزامات دوبارہ سامنے لائے گئے۔ نوٹ میں مزید لکھا گیا کہ شکایتیں اور افسوس کسی فائدے کے نہیں کیونکہ یہ سب اس قابل نہیں۔

یہ نوٹ پہلی بار جولائی 2019 کے اس واقعے کے بعد زیر بحث آیا جب ایپسٹین جیل میں گردن پر نشانات کے ساتھ زندہ پایا گیا تھا۔ اس وقت حکام نے اسے ممکنہ خودکشی کی کوشش قرار دیا تھا۔ نکولس ٹارٹاگلیونے کے مطابق یہ نوٹ ان دونوں کی مشترکہ کوٹھڑی میں ایک کتاب کے اندر رکھا گیا تھا۔ چند ہفتوں بعد، 10 اگست 2019 کو ایپسٹین اپنی کوٹھڑی میں مردہ پایا گیا۔

جیفری ایپسٹین 2008 میں بھی فلوریڈا میں ایک کم عمر لڑکی کو جسم فروشی کے لیے استعمال کرنے کے مقدمے میں جرم قبول کر چکا تھا۔ بعد ازاں جولائی 2019 میں اسے دوبارہ گرفتار کیا گیا اور اس پر نیویارک اور فلوریڈا میں کم عمر لڑکیوں کے استحصال کے الزامات عائد کیے گئے۔

نکولس ٹارٹاگلیونے نے گزشتہ برس ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں اس نوٹ کا ذکر کیا تھا، تاہم معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب نیویارک ٹائمز نے اس کی تفصیلات شائع کیں۔ اخبار کے مطابق یہ نوٹ نہ تو وفاقی تفتیشی ریکارڈ میں شامل تھا اور نہ ہی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں اس کا کوئی ذکر موجود تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ چونکہ ایپسٹین کی وفات ہو چکی ہے اور اس معاملے پر پہلے ہی عوامی سطح پر گفتگو جاری ہے، اس لیے اس دستاویز کو خفیہ رکھنے کا جواز باقی نہیں رہا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US