پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم نے زمبابوے ویمنز کو تیسرے ون ڈے میچ میں 206 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی۔
یہ رنز کے لحاظ سے ون ڈے فارمیٹ میں پاکستان کی اب تک کی سب سے بڑی جیت ہے۔ اس تاریخی کامیابی کے دوران پاکستان نے مقررہ اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 343 رنز بنائے، جو ٹیم کا دوسرا بڑا مجموعی اسکور ہے۔
پاکستان کی ٹیم ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں مسلسل چار مرتبہ 300 سے زائد رنز بنانے والی دنیا کی دوسری ٹیم بھی بن گئی ہے۔
میچ میں صدف شمس اور گل فیروزہ نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پہلی ون ڈے سنچریاں اسکور کیں اور 189 رنز کی اوپننگ شراکت قائم کی، جو پاکستان کے لیے دوسری بڑی اوپننگ پارٹنرشپ ہے۔
صدف شمس پاکستان کی پہلی بیٹر بن گئی ہیں جنہوں نے مسلسل چار ون ڈے میچز میں 50 سے زائد رنز بنائے، جبکہ گل فیروزہ نے محض 93 گیندوں پر پاکستان کی جانب سے تیز ترین ون ڈے سنچری کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔
پاکستان کی تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے جب دونوں اوپنرز نے ایک ہی اننگز میں سنچریاں بنائیں۔ اس کے علاوہ سدرہ امین ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ 22 مرتبہ 50 پلس اسکور کرنے والی کھلاڑی بن گئی ہیں۔
شاندار کارکردگی پر گل فیروزہ کو ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے 'اسٹار آف دی میچ' کی ٹرافی دی گئی۔