ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں، علاقائی امن کوششوں اور مختلف بین الاقوامی معاملات پر مؤقف پیش کیا۔
ترجمان نے کہا کہ آج معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ منائی جا رہی ہے جو قومی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ڈپلومیٹک کور کو بریفنگ دیتے ہوئے اس دن کو قومی اتحاد، استقامت اور افواج پاکستان کے عزم کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا ردعمل آپریشن بنیان المرصوص کے تحت متوازن، قانونی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تھا۔
ترجمان کے مطابق بریفنگ میں جموں و کشمیر کے تنازع کو علاقائی عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے اس کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے کردار پر زور دیا گیا۔ ساتھ ہی سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آبنائے ہرمز میں پیش رفت کو سراہتے ہوئے خطے میں استحکام کے لیے مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا۔
اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں خطے کی صورتحال پر بات ہوئی۔ ایران نے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔
ترجمان کے مطابق سفارتی کوششوں کے نتیجے میں زیر حراست ایرانی جہاز MV Touska کے 22 رکنی عملے کی رہائی اور ان کی وطن واپسی ممکن ہوئی، جسے خطے میں اعتماد سازی کا اہم قدم قرار دیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نائب وزیراعظم نے کویت، اردن اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے جبکہ ناروے کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات پر بات چیت ہوئی۔ ناروے نے اسحاق ڈار کو اوسلو فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے ترکیہ، برازیل، جنوبی افریقہ، اسپین سمیت متعدد ممالک کے مشترکہ بیان کی حمایت کی جس میں گلوبل سمود فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نیوی نے بحیرہ عرب میں بھارتی و انڈونیشیائی عملے پر مشتمل ایک بحری جہاز کی ہنگامی مدد کی۔ جہاز کو تکنیکی خرابی کے بعد خوراک، طبی امداد اور مرمت میں معاونت فراہم کی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ کمبوڈیا میں چھاپے کے دوران گرفتار 54 پاکستانیوں میں سے 49 وطن واپس پہنچ چکے ہیں جبکہ دیگر کی واپسی جاری ہے۔
یوگنڈا میں 85 پاکستانی شہریوں کی غیر قانونی ملازمت کے باعث گرفتاری کے بعد ان کی رہائی اور واپسی بھی مکمل کر لی گئی۔ ہر فرد پر 400 ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ سفارت خانے نے ان کی رہائش، خوراک اور طبی سہولیات بھی یقینی بنائیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے یوگنڈا میں دیگر جنوبی ایشیائی شہریوں کی مدد بھی کی۔
بریفنگ کے اختتام پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، مکالمے اور انسانی ہمدردی پر مبنی سفارت کاری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔