امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور مشترکہ امریکی و اسرائیلی حملے کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد پاکستان نے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد امن مذاکرات کی میزبانی کی۔ مذاکرات میں امریکی وفد کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے کی تھی، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی تھی۔ تاہم بات چیت کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی تھی۔
پاکستان نے دوسرے دور کی میزبانی کی پیشکش بھی کی، لیکن ایران نے اسے مسترد کردیا تھا۔ ایران کی سرکاری خبر ایجنسی IRNA نے اسلام آباد میں دوسرے مرحلے کے مذاکرات کی خبروں کو غلط قرار دیا۔ ابتدا میں ان مذاکرات کو ایک وقتی ملاقات سمجھا گیا تھا، مگر بعد میں قسط وار مذاکرات کا تاثر ابھرا، اگرچہ امریکا اور ایران کی تاریخی دشمنی کے باعث مستقبل کے ادوار غیر یقینی ہیں۔
پاکستان میں ان مذاکرات کی خبر پر غیر معمولی جوش و خروش دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی پاسپورٹس اور بیرون ملک بہتر استقبال سے متعلق ویڈیوز وائرل ہوئیں، تاہم کئی پوسٹس کا متن ایک جیسا ہونے پر انہیں منظم مہم قرار دیا گیا۔ عالمی میڈیا نے بھی پاکستان کو نمایاں کوریج بھی دی۔
برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے اسے غیر متوقع امن ثالث، دی اسپیکٹیٹر نے ایران جنگ کے خاتمے میں اہم کردار، جبکہ دی نیویارکر اور دی گارڈین نے پاکستان کو اہم کھلاڑی اور امن ساز قرار دیا، حالانکہ پاکستان نے بنیادی طور پر صرف مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا تھا۔
پاکستانی میڈیا میں فوری طور پر بھارت سے موازنہ شروع ہوگیا، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بھارت بمقابلہ پاکستان کا معاملہ نہیں، کیونکہ بھارت نے جان بوجھ کر خاموش رہنے کو ترجیح دی۔ دوسری جانب پاکستان کے لیے اس کردار کی کئی وجوہات تھیں۔ ایران اس کا ہمسایہ ملک ہے اور کسی طویل جنگ کے اثرات براہِ راست پاکستان تک پہنچ سکتے تھے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے ان مذاکرات کو عالمی سطح پر اپنی شبیہ بہتر بنانے اور خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرنے کا موقع سمجھا۔