معرکہ حق سے پاکستان کا سر فخر سے بلند ہوا، عطا تارڑ کا سیمینار سے خطاب

image

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے ”معرکہ حق“ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونا قومی عزم، جذبے اور وژن کی علامت ہے اور اس موقع پر تقریب میں شرکت ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ معرکہ حق سے پاکستان کا سر فخر سے بلند ہوا اور بیانیے کی جنگ میں سچ اور حقائق کی فتح ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قوم حکومت اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ جامع حکمت عملی اور مکمل ہم آہنگی کے ذریعے ہر سطح پر دشمن کو مؤثر جواب دیا گیا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ موجودہ دور میں جنگ کے تقاضے تبدیل ہوچکے ہیں اور اب بیانیے کی جنگ میں حقائق اور سچ سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی میڈیا نے کشیدگی کے دوران ذمہ دارانہ کردار ادا کیا جبکہ بھارتی میڈیا نے حقائق کے برعکس بے بنیاد پروپیگنڈا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی صحافیوں نے ایل او سی کا دورہ کر کے بھارتی دعوؤں کو بے نقاب کیا۔ وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں بھی پاکستان نے دی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے اور اس نے اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ناکام کوششیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے فوری بعد ایف آئی آر کا اندراج آج بھی سوالیہ نشان ہے جبکہ پاکستان نے اس معاملے پر شفاف تحقیقات کی مخلصانہ پیشکش کی، تاہم بھارت نے تاحال اس کا جواب نہیں دیا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بھارت فالس فلیگ آپریشنز کی تاریخ رکھتا ہے جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا مسئلہ بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں۔ انہوں نے دو قومی نظریے کو آج بھی ایک حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بنیاد اسی نظریے پر رکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستانی نوجوانوں اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ وزیر اطلاعات کے مطابق بھارت نے پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندیاں عائد کیں، تاہم پاکستان نے بھارتی چینلز پر پابندی نہیں لگائی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنا مؤقف بھارتی عوام تک بھی پہنچایا، جس پر بھارت میں بھی حکومتی پالیسیوں پر تنقید سامنے آئی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US