تربوز کھانے سے 4 افراد کی ہلاکت، کیس میں سنسنی خیز انکشاف

image

ممبئی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی پراسرار ہلاکت کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ابتدائی طور پر اسے عام فوڈ پوائزننگ سمجھا جا رہا تھا مگر فرانزک تحقیقات کے بعد انکشاف ہوا کہ موت کی اصل وجہ ایک خطرناک زہریلا کیمیکل تھا جو عام طور پر چوہے مار دوا میں استعمال کیا جاتا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جاں بحق افراد کے جسمانی اعضا اور اس تربوز میں زنک فاسفائیڈ نامی زہریلا مادہ پایا گیا جو انہوں نے واقعے سے کچھ دیر پہلے کھایا تھا۔ یہ رپورٹ اب ممبئی پولیس کے حوالے کر دی گئی ہے جو اس افسوسناک واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

مرنے والوں میں 44 سالہ عبدالدوکڑیا، ان کی اہلیہ نسرین اور دو کم عمر بیٹیاں عائشہ اور زینب شامل تھیں۔ اہلخانہ نے 25 اپریل کی رات اپنے رشتہ داروں کو کھانے پر مدعو کیا تھا جہاں چکن بریانی پیش کی گئی۔ مہمانوں کے جانے کے بعد رات گئے خاندان نے تربوز کھایا، جس کے چند گھنٹوں بعد سب کی طبیعت اچانک خراب ہونے لگی۔

اہلخانہ کو شدید الٹیاں اور بے چینی کی شکایت ہوئی۔ پہلے ایک ڈاکٹر کو گھر بلایا گیا جس نے معمولی فوڈ انفیکشن سمجھتے ہوئے ادویات دیں، لیکن حالت مزید بگڑنے پر سب کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ ایک بچی نجی اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئی جبکہ باقی تین افراد دوران علاج زندگی کی بازی ہار گئے۔

پولیس نے گھر سے کھانے پینے کی مختلف اشیا، جن میں بریانی، تربوز اور پانی شامل تھا فرانزک جانچ کے لیے قبضے میں لے لی تھیں۔ تفتیش کے دوران تقریب میں شریک رشتہ داروں نے بتایا کہ انہوں نے بھی وہی بریانی کھائی تھی مگر ان کی طبیعت بالکل متاثر نہیں ہوئی جس کے بعد شبہ تربوز پر گیا۔

حکام کے مطابق اب تک کی تحقیقات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہلاکتیں تربوز کی وجہ سے نہیں بلکہ اس میں شامل زہریلے مادے کے باعث ہوئیں۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ کیمیکل غلطی سے شامل ہوا یا کسی نے جان بوجھ کر ایسا کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال خودکشی یا اجتماعی طور پر زہر کھانے جیسے شواہد سامنے نہیں آئے جبکہ معاملے کی ہر پہلو سے چھان بین جاری ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US