پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے معرکہ حق، آپریشن بنیان المرصوص کا پہلا سال مکمل ہونے پر پوری قوم اور مسلح افواج کو مبارکباد پیش کی ہے۔
اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے اس معرکے کو ملکی دفاع کی تاریخ کا ایک سنہرا باب قرار دیتے ہوئے دشمن کے عزائم خاک میں ملانے والے غازیوں اور شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ پاکستان بھر میں معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر نمائشی ہاکی مقابلے منعقد کرکے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
صدر پی ایچ ایف نے اپنے بیان میں خاص طور پر اس معرکے کے مرکزی کرداروں اور عسکری قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "آپریشن معرکہ حق - بنیان المرصوص کی کامیابی محض دفاعی فتح نہیں بلکہ یہ ہمارے وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کی بے مثال سیاسی اور جنگی حکمت عملی، آہنی عزم اور بروقت فیصلوں کا ثمر ہے۔ فیلڈ مارشل کی زیرِ قیادت جس طرح پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج نے سیسہ پلائی دیوار (بنیان المرصوص) بن کر دشمن کو عبرتناک شکست دی، اس نے عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی وقار کو بلند کردیا ہے۔"
محی الدین احمد وانی نے مزید کہا کہ جس طرح میدانِ جنگ میں نظم و ضبط اور ہمت کامیابی کی ضمانت ہے، اسی طرح کھیل کا میدان بھی حب الوطنی کا تقاضا کرتا ہے۔ معرکہ حق نے نوجوان کھلاڑیوں میں یہ جذبہ پیدا کیا ہے کہ ناممکن کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ جس طرح ہماری افواج نے 'بنیان المرصوص' کے تحت دفاع کیا، ویسے ہی ہم پاکستان ہاکی کو بھی عالمی سطح پر ایک ناقابلِ شکست قوت بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
صدر ہاکی فیڈریشن نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بھارت کے خلاف اس معرکے کی کامیابی نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان کے دفاع کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو خاک میں ملا دیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہاکی فیملی ملک کے دفاع کے لیے ہمیشہ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔
دوسری جانب پاکستان ہاکی فیڈریشن کی ایڈہاک کمیٹی کے صدر محی الدین وانی نے مستقبل کے اہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ پوری کمیٹی فیڈریشن سے مراعات لینے کے بجائے قومی کھیل کی بہتری کے لیے اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت اولین ترجیح قومی ٹیم کو مکمل تیاری کے ساتھ پرو لیگ کے لیے روانہ کرنا ہے، جبکہ ورلڈ کپ کے لیے بھی ٹیم کی تیاریوں پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
محی الدین وانی نے جونیئر لیول پر ہاکی کے فروغ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انڈر 18 ٹیم ایشیا کپ میں شرکت کے لیے جا رہی ہے، جبکہ انڈر 14 اور انڈر 16 کے کھلاڑیوں کو کٹس فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ہدف ظاہر کیا کہ آئندہ چند ماہ میں 50 سے 60 ہزار بچوں کو میدانوں میں لایا جائے گا۔
ایڈہاک کمیٹی کے صدر نے مزید کہا کہ کلبوں کی سکروٹنی کا عمل شروع ہو چکا ہے اور خواتین کھلاڑیوں کے لیے بھی متعدد چیمپئن شپ منعقد کرائی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ہر دن کو آخری سمجھ کر کام کر رہے ہیں اور جب تک پیٹرن ان چیف وزیراعظم اور حکومتِ پاکستان ان پر اعتماد برقرار رکھیں گے، وہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔