وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مبینہ ٹارگٹ ڈیپورٹیشن سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں قیاس آرائیوں اور بدنیتی پر مبنی قرار دے دیا۔
وزارت داخلہ کے مطابق کسی خاص ملک، مسلک یا طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنا کر بے دخل نہیں کیا جا رہا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیپورٹیشن کا عمل صرف متعلقہ ممالک کے قوانین، ویزا شرائط کی خلاف ورزی یا غیر قانونی دستاویزات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ پاکستانی شہری بدستور یو اے ای کے ویزے حاصل کر رہے ہیں اور ویزا اجرا کا عمل معمول کے مطابق جاری ہے۔ وزارت کے مطابق جھوٹی اور گمراہ کن خبریں مذموم مقاصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل اور معاملات متعلقہ ممالک کے ساتھ سفارتی ذرائع سے اٹھائے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔