بنگلادیش ٹیسٹ میں ڈیبیو کرنے والے نوجوان بلے بازوں نے تجربات شیئر کردیے

image

بنگلا دیش کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ڈیبیو کرنے والے نوجوان بلے بازوں آذان اویس اور عبداللہ فضل نے اپنے پہلے میچ کے تجربات اور جذبات کا اظہار کیا ہے۔

آذان اویس کا کہنا تھا کہ وہ میچ کے لیے پریشر میں نہیں بلکہ پرجوش تھے، البتہ جب بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے تو تھوڑا تجسس ضرور تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹنگ کے دوران گیند لگنے کے بعد جب آنکھیں کھلیں تو وہ کچھ دیر کے لیے 'زون آؤٹ' ہو گئے تھے اور وہ پانچ منٹ کافی مشکل تھے، لیکن پھر انہوں نے خود کو سمجھایا کہ اب کھیل کر دکھانا ہے اور خود کو نارمل رکھ کر اپنی صلاحیتوں کو ثابت کیا۔ آذان اویس نے سینئر بیٹر امام الحق کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کریز پر میرا بھرپور ساتھ دیا، ہمیں سمجھایا اور ہماری پارٹنرشپ بہت اچھی رہی۔

دوسری جانب عبداللہ فضل نے اعتراف کیا کہ ڈیبیو میچ کا دباؤ تھا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے رن کے لیے 20 سے 22 گیندیں کھیلنی پڑیں، تاہم پہلا چوکا لگتے ہی سارا پریشر ختم ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے ڈیبیو کو بہت انجوائے کیا ہے اور پہلی اننگز میں اچھی کارکردگی کے بعد اب کوشش ہے کہ دوسری اننگز میں بھی بہتر کھیل پیش کریں۔ عبداللہ فضل کا مزید کہنا تھا کہ ٹیم کی حکمت عملی اب یہی ہے کہ بنگلا دیشی کھلاڑیوں کو جلد آؤٹ کر کے ہدف حاصل کیا جائے۔

دوسری جانب بنگلا دیش کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو پر شاندار سنچری اسکور کرنے والے نوجوان بیٹر آذان اویس نے کہا ہے کہ اپنے پہلے ہی بین الاقوامی میچ میں ملک کے لیے بہترین پرفارمنس دینا ان کے لیے کسی خواب کے پورا ہونے سے کم نہیں ہے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے آذان اویس نے بتایا کہ گزشتہ دو سال میں 33 فرسٹ کلاس میچز کھیل کر وہ یہاں تک پہنچے ہیں اور ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا ان کا ہمیشہ سے خواب تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ہر طرح کی پچز پر کھیلنے کے تجربے کی وجہ سے وہ انٹرنیشنل کرکٹ کا پریشر سنبھالنے میں کامیاب رہے، اگرچہ پہلی گیند کھیلتے وقت تھوڑی گھبراہٹ تھی لیکن پھر سب نارمل ہوگیا۔ انہوں نے اپنی یادگار سنچری پر سادہ جشن منانے کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے اپنی زندگی کا اہم ترین لمحہ قرار دیا۔

دورانِ بیٹنگ پیش آنے والے مشکل واقعے کا ذکر کرتے ہوئے آذان اویس نے بتایا کہ جب ناہید رانا کا تیز گیند ان کے ہیلمٹ پر لگا تو وہ پانچ منٹ تک حواس کھو بیٹھے تھے، تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور خود کو سنبھال کر دوبارہ بیٹنگ شروع کی۔ انہوں نے اپنی کامیابی میں سینئر بیٹر امام الحق کے کردار کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام نے نہ صرف بہترین پارٹنرشپ قائم کی بلکہ مسلسل حوصلہ دے کر ان کا پریشر بھی کم کیا۔

آذان اویس نے اپنی کارکردگی کا کریڈٹ اپنے والد، کوچ منصور امجد اور ٹیم مینجمنٹ کو دیا جنہوں نے ان پر بھروسہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ساتھی کھلاڑی انہیں بہت کانفیڈینس دے رہے ہیں اور اب ٹیم کی نظریں بنگلا دیش کو کم اسکور پر محدود کر کے میچ جیتنے پر مرکوز ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US