امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے عالمی تیل مارکیٹ کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال غیر واضح ہونے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تین فیصد سے زیادہ بڑھ گئی، جس کے بعد برینٹ کروڈ آئل 104 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 99 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھ رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر توانائی کی عالمی مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق جنگی حالات شروع ہونے کے بعد سے برینٹ خام تیل تقریباً 20 ڈالر فی بیرل مہنگا ہوچکا ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بھی عالمی منڈی کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے کیونکہ دنیا کے بڑے حصے کی تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق دیے گئے جواب کو سختی سے مسترد کردیا۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی نمائندوں کی طرف سے موصول ہونے والا ردعمل انہیں بالکل قابل قبول نہیں لگا۔ ان کے مطابق یہ جواب امریکا کی توقعات کے برعکس تھا۔