صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے کہا ہے کہ میں بطور وزیرداخلہ سندھ انمول پنکی کیس میں پولیس کا رویہ دیکھ کر شدید افسوس اور شرمندگی محسوس کر رہا ہوں۔ کیا اسی طرح نظام چلے گا؟ انمول پنکی کیس اب ایک ٹیسٹ کیس بن چکا ہے، اسی لیے میں فوری طور پر جے آئی ٹی تشکیل دے رہا ہوں جس میں ایڈیشنل آئی جی، انٹیلی جنس اداروں کا نمائندہ اور ایک بیوروکریٹ شامل ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ ہم یہ جائزہ لیں گے کہ پولیس نے عدالت میں ریمانڈ کے لیے کتنا مضبوط چالان پیش کیا تھا۔ ملزمہ کے خلاف تمام مقدمات میں ریمانڈ لیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ وہ دوبارہ باہر نہ آسکے۔ انمول پنکی صرف ایک ملزمہ نہیں بلکہ چلتی پھرتی منشیات کی فیکٹری ہے۔ کراچی میں ایسے کئی منشیات فروش گروہ سرگرم ہیں کیونکہ اس شہر میں چھپنا نسبتاً آسان سمجھا جاتا ہے۔ گارڈن تھانے کے تین افسران کو معطل کردیا گیا ہے جبکہ خاتون مجسٹریٹ کے خلاف بھی درخواست دائر کی جائے گی کیونکہ اتنے حساس کیس میں 24 گھنٹے کا ریمانڈ بھی نہ دینا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کراچی کی تاریک گلیوں میں سرگرم مبینہ منشیات نیٹ ورک نے سندھ حکومت کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ انمول عرف پنکی کیس پر پہلی بار وزیرداخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کھل کر سامنے آگئے اور پولیس کی کارکردگی پر ہی سوالات اٹھا دیے۔ انہوں نے واضح انداز میں اعتراف کیا کہ اس پورے معاملے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا طرزعمل نہ صرف مایوس کن رہا بلکہ حکومت کے لیے باعثِ شرمندگی بھی بن گیا۔
وزیرداخلہ نے عندیہ دیا کہ اب یہ کیس صرف ایک خاتون کی گرفتاری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کراچی میں جڑیں پھیلا چکے مبینہ منشیات مافیا کے خلاف بڑے آپریشن کا آغاز بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق انمول پنکی کوئی عام کردار نہیں بلکہ ایک ایسا مرکزی نام ہے جس کے گرد پورا نیٹ ورک گھومتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے فوری طور پر اعلیٰ سطح کی جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ پتا چلایا جاسکے کہ آخر تفتیش، ریمانڈ اور قانونی کارروائی میں کہاں کہاں کمزوریاں رہیں۔
ضیا الحسن لنجار نے اس بات پر بھی حیرت ظاہر کی کہ اتنے سنجیدہ نوعیت کے کیس میں ملزمہ کا مناسب ریمانڈ کیوں نہ لیا جاسکا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب ہر پہلو کی جانچ ہوگی، چاہے اس میں پولیس افسران کی غفلت ہو یا عدالتی کارروائی سے جڑے سوالات۔ اسی سلسلے میں گارڈن تھانے کے تین افسران کو معطل کردیا گیا جبکہ خاتون مجسٹریٹ کے خلاف بھی قانونی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا گیا۔
وزیرداخلہ کے مطابق کراچی اس وقت مختلف منشیات فروش گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بنتا جارہا ہے کیونکہ شہر کی وسعت اور بے ہنگم صورتحال جرائم پیشہ عناصر کو چھپنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ معاملہ صرف ایک نام تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی منظم گینگ سرگرم ہوسکتے ہیں، جن تک پہنچنا اب حکومت کی ترجیح بن چکا ہے۔