فلپائن سے تعلق رکھنے والی 33 سالہ ڈاکٹر فاطمہ نے سوشل میڈیا کو صرف تفریح نہیں بلکہ اپنی والدہ کا حج کا خواب پورا کرنے کا ذریعہ بنا لیا۔
عرب میڈیا کے مطابق ڈاکٹر فاطمہ دن میں اپنی ملازمت کرتی تھیں جبکہ رات کے وقت ٹک ٹاک لائیو سیشنز کے دوران صابن فروخت کرتی رہیں جس کے ذریعے انہوں نے 6 ہزار سے زائد صابن فروخت کر کے حج کے اخراجات جمع کیے۔
رپورٹ کے مطابق ان کی 61 سالہ والدہ 4 مئی کو سعودی عرب روانہ ہو چکی ہیں جہاں وہ حج کی سعادت حاصل کریں گی۔
ڈاکٹر فاطمہ کا کہنا ہے کہ ان کی سب سے بڑی خواہش والدہ کو حج پر بھیجنا تھا جس کے لیے انہوں نے مسلسل محنت کی اور تھکن کے باوجود رات گئے تک کام جاری رکھا۔