وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں افغانستان اور بھارت کے رویے میں کوئی فرق باقی نہیں رہا اور کابل اس وقت ہندوتوا کی پراکسی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر اس وقت ایک ہی دشمن متحرک ہے اور افغانستان، پاکستان کو دہشت گردی کی روک تھام کے حوالے سے کسی قسم کی یقین دہانی کرانے میں ناکام رہا ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی راہ اپنانے کا خواہش مند ہے، تاہم اگر افغانستان نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو پاکستان وہی ردعمل دینے میں حق بجانب ہوگا جو بھارت کے خلاف اپنایا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے قطر، سعودی عرب اور ترکیہ جیسے دوست ممالک کے ساتھ مل کر کابل انتظامیہ کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی اور ان ممالک نے اس عمل میں پاکستان کا ساتھ بھی دیا، لیکن تاحال افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے سدباب کے لیے کابل کی جانب سے سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔