مریم نواز نے انمول پنکی کے نیٹ ورک کی اعلیٰ پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی

image

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے مبینہ نیٹ ورک سے متعلق اعلیٰ پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے، جبکہ دوسری جانب سی سی ڈی نے بھی کیس کی باقاعدہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مختلف پہلوؤں پر تفتیش شروع کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق کیس میں پنکی کے مبینہ شوہر اور سابق پولیس انسپکٹر رانا اکرام کو بھی طلب کر لیا گیا ہے، جن سے ممکنہ سہولت کاری اور نیٹ ورک سے متعلق پوچھ گچھ کی جائے گی۔

تحقیقات کے دوران انمول عرف پنکی کے حوالے سے کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کراچی کے پوش علاقوں، جامعات اور دیگر حساس مقامات پر منشیات سپلائی کرتی تھی۔ تفتیشی حکام کے مطابق وہ ایک گرام کوکین 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کرتی تھی اور زیادہ تر لین دین آن لائن طریقے سے کیا جاتا تھا۔ نئے گاہکوں کے لیے وہ براہِ راست ڈیلیوری کے بجائے مخصوص جگہوں پر منشیات رکھواتی، جہاں سے خریدار خود جا کر سامان حاصل کرتے تھے۔

ذرائع کے مطابق انمول پنکی کے لیے ایک منظم 6 رکنی گروہ کام کر رہا تھا، جس میں ایک خاتون اور پانچ مرد شامل ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کراچی میں اس نیٹ ورک کے ذریعے ہر ماہ دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی منشیات فروخت کی جاتی تھی۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے زیرِ استعمال دو موبائل سمیں افضل اور صابرہ بی بی کے نام پر رجسٹرڈ تھیں۔ انمول پنکی نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ لاہور سے کراچی منشیات پہنچانے کے لیے انٹر سٹی بسوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ شناختی کارڈ بلاک ہونے کے بعد اس نے سمیر نامی شخص کے ذریعے بینک اکاؤنٹ کھلوایا، جبکہ رقم کی منتقلی موبائل ایپس اور دیگر اکاؤنٹس کے ذریعے کی جاتی تھی، جن میں ایک اکاؤنٹ ذیشان کے نام پر بھی کھلوایا گیا۔

ملزمہ نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کے سابق شوہر کے دو بھائی وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور پولیس سے بچنے کے لیے منشیات ان کے چیمبرز میں چھپا کر رکھی جاتی تھی۔ انمول پنکی کے مطابق مختلف تھانوں کے اہلکاروں کو ہر ماہ لاکھوں روپے دیے جاتے تھے، جبکہ ایک پولیس اہلکار نے اس کے رائیڈرز کو حراست میں لے کر مجموعی طور پر ایک کروڑ روپے رشوت وصول کی۔

دورانِ تفتیش ملزمہ نے یہ بھی کہا کہ ایک پولیس افسر نے اس کے بھائی کو کئی مرتبہ گرفتار کر کے رشوت لینے کے بعد چھوڑا۔ اس نے الزام لگایا کہ بعض اہلکاروں کے رویے سے تنگ آ کر اس نے ایک پولیس اہلکار کو قتل کروانے تک کا سوچ لیا تھا اور اس مقصد کے لیے مبینہ طور پر کرائے کے قاتلوں سے رابطے پر بھی غور کیا گیا۔

ادھر لاہور میں بھی انمول پنکی کے خاندان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق 2022 میں تھانہ کوٹ لکھپت میں ریاض بلوچ کے خلاف منشیات برآمدگی کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ اس مقدمے میں ریاض بلوچ نے بتایا تھا کہ فرار ہونے والی لڑکی اس کی بہن انمول عرف پنکی تھی۔

لاہور پولیس کے مطابق ایک لگژری گاڑی میں سوار لڑکا اور لڑکی شاداب کالونی میں منشیات فروخت کرنے آئے تھے۔ جیسے ہی گاڑی رکی، ایک نوجوان منشیات دینے کے لیے نیچے اترا تو اہلکاروں نے اسے گرفتار کر لیا، جبکہ گاڑی میں موجود لڑکی تیزی سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اسی مقدمے میں انمول پنکی کو لاہور منتقل کر کے مزید تفتیش کیے جانے کا امکان ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US