بھارتی ریاست بہار میں 23 سالہ نئی نویلی دلہن سنجو کماری کی شادی کے صرف 4 دن بعد پراسرار موت نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی۔ اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ سونے کی چین کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر سسرال والوں نے سنجو کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کی موت واقع ہوگئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بہار میں 23 سالہ سنجو کماری کی شادی 7 مئی کو ونود پال نامی شخص سے دھوم دھام سے انجام پائی تھی۔ لڑکی والوں کی جانب سے جہیز میں تقریباً 4 لاکھ روپے نقد، موٹر سائیکل، فریج، فرنیچر، برتن اور سونے چاندی کے زیورات بھی دیے گئے تھے۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود دولہا اور اس کے گھر والے سونے کی چین کا مطالبہ کر رہے تھے اور یہی تنازع بعد میں سنگین صورتحال اختیار کر گیا۔
مقتولہ کے بھائی شیوم پال کے مطابق شادی کے بعد سنجو کو اپنے گھر والوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ خفیہ طور پر فون کرنے پر بھی سنجو کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
بھائی کے مطابق سنجو نے ایک خفیہ کال میں گھر والوں کو بتایا تھا کہ سسرال میں اسے شدید ذہنی اور جسمانی اذیت دی جا رہی ہے۔
اہلِ خانہ نے مزید دعویٰ کیا کہ 11 مئی کو ونود پال کی والدہ سمیترا دیوی نے فون پر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ “تمہاری بہن زندہ واپس نہیں آئے گی، اب اس کی لاش ہی نکلے گی”، اسی دوران سنجو کی چیخ سنائی دی اور کال اچانک منقطع ہوگئی۔
رپورٹس کے مطابق اگلے روز خاندان کو اطلاع ملی کہ سنجو کی موت ہو چکی ہے۔ اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ سنجو کا گلا دبا دیا گیا اور ثبوت مٹانے کے لیے لاش کو جلد بازی میں جلا دیا گیا۔
جب اہلِ خانہ شمشان گھاٹ پہنچے تو لاش کا بیشتر حصہ جل چکا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے سنجو کے شوہر ونود پال، اس کے والدین، بہن اور بہنوئی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے ساس سمیترا دیوی کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ملزمان فرار بتائے جا رہے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے کی جا رہی ہیں۔