فیصل آباد میں علاج کے دوران سامنے آنے والی ایک سنگین غفلت نے اسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ اوپن ہارٹ سرجری کے بعد ایک نوجوان مریض مسلسل تکلیف میں مبتلا رہا، جس کے بعد معلوم ہوا کہ آپریشن کے دوران اس کے سینے میں قینچی رہ گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ ثقلین کی فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں دل کی سرجری کی گئی تھی۔ آپریشن کے بعد مریض کی طبیعت بہتر ہونے کے بجائے مسلسل خراب رہی اور وہ کئی ہفتوں تک درد اور بےچینی برداشت کرتا رہا۔ بعد ازاں تفصیلی معائنے میں انکشاف ہوا کہ سرجری کے دوران استعمال ہونے والی قینچی مریض کے جسم کے اندر ہی رہ گئی ہے۔
واقعے کے بعد فوری طور پر دوبارہ آپریشن کیا گیا، جس کے ذریعے قینچی نکالی گئی۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ آپریشن مکمل ہونے کے بعد طبی آلات کی باقاعدہ گنتی نہیں کی گئی، جو طبی اصولوں کی واضح خلاف ورزی سمجھی جاتی ہے۔
اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ندیم کا کہنا ہے کہ معاملے میں متعلقہ اسٹاف نرسز کی غفلت ثابت ہونے پر ان کی خدمات واپس لے لی گئی ہیں۔ ساتھ ہی مزید محکمانہ کارروائی کے لیے سیکریٹری صحت کو بھی رپورٹ بھجوا دی گئی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ حساس آپریشنز کے دوران حفاظتی طریقہ کار پر سختی سے عمل کیا جائے تاکہ کسی بھی مریض کو ایسی خطرناک صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔