امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی دیگر ممالک کی درخواست پر کی گئی جس میں انہوں نے خاص طور پر پاکستان اور فیلڈ مارشل کا ذکر کرتے ہوئے تعریف کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کا 2 روزہ دورہ مکمل کر کے بیجنگ سے روانہ ہو گئے۔ خصوصی طیارے ’ایئر فورس ون‘ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کا فیصلہ براہِ راست اپنی ترجیح پر نہیں بلکہ دیگر ممالک کی درخواست پر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خصوصی درخواست کی گئی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق وہ ذاتی طور پر اس کے حق میں زیادہ نہیں تھے تاہم امریکا نے اسے ایک رعایت کے طور پر قبول کیا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایران میں دوبارہ محدود نوعیت کا کلین اپ آپریشن بھی کر سکتا ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایران 20 سال کے لیے اپنا نیوکلیئر پروگرام معطل کر دے تو امریکا معاہدے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے دورۂ چین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چین امریکا سے اربوں ڈالر مالیت کی سویابین خریدنے جا رہا ہے۔انہوں نے چینی صدر کے ساتھ تائیوان کے معاملے پر ہونے والی بات چیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے تائیوان سے متعلق کوئی وعدہ نہیں کیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تائیوان کا معاملہ امریکا اور چین کے تعلقات میں ایک پیچیدہ نکتہ ضرور ہے تاہم فی الحال کسی مسلح تصادم کا امکان نظر نہیں آتا۔
ادھر چینی حکومت کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کو خبردار کیا کہ تائیوان کا مسئلہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان براہِ راست محاذ آرائی کا سبب بن سکتا ہے۔