یونیسیف نے کہا ہے کہ لبنان میں مارچ سے جاری اسرائیلی کارروائیوں اور جھڑپوں کے دوران کم از کم 200 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ادارے کے مطابق 2 مارچ کے بعد جب حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ کشیدگی اور حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تو لبنان میں بچوں کی صورتحال تیزی سے بگڑ گئی ہے اور وہ شدید خطرات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
یونیسیف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ لبنان میں بچے مسلسل تشدد، خوف، جبری نقل مکانی اور جنگی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں جس کے باعث ان کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان اور سرحدی علاقوں میں جاری حملوں کی وجہ سے ہزاروں خاندان اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں، جس سے بچوں کی تعلیم کا نظام متاثر ہوا ہے اور ان کی ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ادارے نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ لبنان میں بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور تمام فریقین بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کریں۔
یاد رہے کہ غزہ جنگ کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں لبنان کے مختلف حصوں میں فضائی اور راکٹ حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل جنگی صورتحال اور عدم استحکام لبنان کو ایک سنگین انسانی بحران کی طرف دھکیل رہا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو ہو رہا ہے۔