آئی ایم ایف نے پاکستان میں گیس سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کو توانائی شعبے پر بڑا دباؤ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مزید تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
ذرائع وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق حکومت نے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے ایک جامع منیجمنٹ پلان آئی ایم ایف کو پیش کردیا ہے، جس میں مختلف مالی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
منصوبے کے تحت گیس پر 5 روپے لیوی عائد کرنے، سرکاری کمپنیوں کے ڈیویڈنڈز کے ذریعے قرض کم کرنے اور ریکوری نظام بہتر بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔
حکام کے مطابق حکومت سالانہ 35 ایل این جی کارگوز عالمی مارکیٹ میں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے تقریباً 160 ارب روپے آمدن متوقع ہے جبکہ سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کی ریکوری بہتر بنا کر 61 ارب روپے اضافی وصولیوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے اس پلان پر اہم سوالات اٹھائے ہیں اور مزید تفصیلات طلب کی ہیں، جس پر حکومت کی جانب سے بریفنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق اس وقت گیس سیکٹر کا گردشی قرض تقریباً 3400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ مختلف سرکاری توانائی کمپنیوں کے 150 ارب روپے واجب الادا ہیں۔