مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال سے روزگار کے مواقع محدود، امریکیوں کو معاشی دباؤ کا سامنا

image

امریکا میں کالجز اور یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل طلبہ کو رواں سال کمزور جاب مارکیٹ اور بڑھتے معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جس کے باعث نئی ملازمتوں کا حصول مزید مشکل ہوگیا ہے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی فنڈنگ میں کٹوتیوں، عالمی تنازعات، ٹیرف پالیسیوں اور مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے استعمال نے روزگار کے مواقع کو محدود کردیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ کے دوران امریکا میں تقریباً 6.9 ملین ملازمتیں موجود تھیں، تاہم نئی بھرتیوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ بیشتر ملازمین اپنی موجودہ نوکریاں چھوڑنے سے گریز کر رہے ہیں، جس سے نئے گریجویٹس کے لیے مواقع کم ہوگئے ہیں۔

صحت عامہ، تحقیق، میڈیا، بین الاقوامی امور اور ٹیکنالوجی کے شعبے اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ حکومتی فنڈنگ میں کمی کے بعد کئی بڑی امریکی جامعات نے نئی بھرتیوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں، جس کے باعث ریسرچ اور تعلیمی شعبوں میں ملازمتوں کے امکانات محدود ہوگئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت انٹری لیول ملازمتوں کے لیے بھی بڑا چیلنج بنتی جارہی ہے۔ متعدد کمپنیاں بھرتیوں کے ابتدائی مراحل میں اے آئی سسٹمز استعمال کررہی ہیں، جہاں امیدواروں کے انٹرویوز بھی مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔

نوجوان امیدواروں نے اس نئے نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی پر مبنی بھرتی کا عمل شفافیت اور انسانی جانچ کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US