بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب سورینج میں واقع کوئلے کی کان میں ہونے والے گیس دھماکے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے جہاں مزید 8 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 34 ہو گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق کان میں میتھین گیس کے دھماکے کے وقت مجموعی طور پر 42 کان کن موجود تھے، جو کان کے اندر پھنس گئے تھے۔ ریسکیو ٹیمیں دیگر کان کنوں کی تلاش اور انہیں نکالنے کے لیے مسلسل امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کان کے مالک کا کہنا ہے کہ دھماکا میتھین گیس بھر جانے کے باعث ہوا جبکہ حادثے کے وقت کان میں 42 مزدور کام کر رہے تھے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان نے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔