جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت سنگین سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، جبکہ حکمران عوامی مسائل، امن و امان اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں دوبارہ آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں تاکہ حقیقی عوامی نمائندگی سامنے آسکے۔
انہوں نے یہ بات پیر کو کراچی پریس کلب کے پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پرپریس کلب کے قائم مقام صدر ارشاد کھوکھر، سیکرٹری اسلم خان، خازن عمران ایوب، جوائنٹ سیکرٹری فاروق سمیع، ممبر گورننگ باڈی عبدالجبار ناصر، اختر سومرو، شیما صدیقی، جاوید مہر سمیت پریس کلب کے ممبران اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
مولانا فضل الرحمان نے ملکی سیاسی صورتحال، جمہوریت، آئین، سویلین بالادستی، امن و امان اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بدامنی عروج پر ہے، خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صورتحال تشویشناک رخ اختیار کرچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کہیں علیحدگی کی باتیں ہورہی ہیں تو کہیں بزورِ شمشیر شریعت نافذ کرنے کے نعرے لگ رہے ہیں، جبکہ دیہی سندھ میں ڈاکوؤں کا راج قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران طبقات نہ امن و امان کے قیام میں سنجیدہ ہیں اور نہ ہی عوامی معاشی مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جے یو آئی (ف) سربراہ نے کہا کہ عام آدمی اپنی محنت کی کمائی سے بچوں کی تعلیم اور دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے سے بھی قاصر ہوچکا ہے، جبکہ مہنگائی کے بوجھ تلے عوام کو مسلسل دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی حالات کو جواز بنا کر عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔
انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’خدارا اس روش سے باز آجائیں اور ریاستی اداروں کو اتنا مضبوط نہ بنایا جائے کہ پارلیمنٹ بے معنی ہوکر رہ جائے۔ مولانا فضل الرحمان نے 2018ء اور 2024ء کے عام انتخابات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوامی رائے کو تبدیل کیا گیا اور مرضی کی حکومتیں قائم کرنے کے لیے نتائج کو عوامی خواہشات کے برعکس بنایا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا موجودہ پارلیمنٹ حقیقی معنوں میں قوم کی نمائندہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ آئین ایک قومی میثاق ہے اور اس کا تحفظ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق اگر آئین کمزور ہوجائے تو ملک سنگین نتائج سے دوچار ہوسکتا ہے۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے اور مسلح گروہ فوجی تنصیبات تک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور عالمی رہنماؤں کی آمد کے باعث احتجاج موخر کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ جے یو آئی ضد کی سیاست نہیں کرنا چاہتی بلکہ ریاستی وقار اور قومی استحکام کو مقدم سمجھتی ہے۔ پارٹی ملک میں سیاسی اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دنیا بھر میں جمہوریت کمزور دکھائی دے رہی ہے اور طاقتور ممالک کمزور ریاستوں میں مداخلت کرتے ہیں، خصوصاً ان ممالک میں جہاں معدنی وسائل موجود ہوں۔ 28 ویں آئینی ترمیم سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا، تاہم تمام معاملات آئین اور جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین آمروں کی مداخلت کے باعث متاثر ہوا، تاہم 18ویں ترمیم کے ذریعے آئین کو اصل شکل میں بحال کرنے کی کوشش کی گئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں بشمول مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم نے بھی کردار ادا کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اتفاقِ رائے کو کمزور سمجھنا ملک کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے سویلین بالادستی کے لیے جدوجہد کی، لیکن آج وہی عناصر اس کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے سابق فوجی ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں ملک کو نقصان پہنچا اور آئین میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔
جے یو آئی سربراہ نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں چل رہی ہے، جبکہ سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا۔
افغانستان اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے پاس ثالثی کے کردار کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاملات پر اختلافات بھی موجود رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب پشتون آباد ہیں اور دونوں ممالک کو باہمی تجارت، سرحدی سلامتی اور مسلح گروہوں جیسے مسائل پر مل کر کام کرنا ہوگا۔ قبل ازیں پریس کلب آمد پر پریس کلب کے عہدیداروں اور مجلس عاملہ نے ان کا استقبال کیا۔