پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ اسد شفیق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیٹنگ یونٹ کے طور پر ٹیم کا اچھا کم بیک ہوا ہے اور دوسری اننگز میں کچھ اچھی پارٹنرشپس دیکھنے کو ملی ہیں جنہیں ہم پہلے مس کر رہے تھے۔
انہوں نے کپتان شان مسعود کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نیٹ پر بہت محنت کر رہے تھے اور اس اننگز میں انہوں نے دباؤ کا اچھے انداز سے سامنا کرتے ہوئے بہترین شاٹس کھیلیں اور شاندار کھیل پیش کیا۔
بیٹنگ کوچ نے میچ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جس طرح کی بیٹنگ آج ہوئی ہے، پاکستان یہ میچ جیت سکتا ہے، تاہم اس کے لیے محمد رضوان اور ساجد خان کی پارٹنرشپ کا لمبا جانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر محمد رضوان سنچری کرتے ہیں تو یہ ٹیم کے لیے بہت اچھا ہوگا۔
اسد شفیق نے پچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسے ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ایک بہترین وکٹ قرار دیا، جہاں اسپنرز اور فاسٹ بالرز دونوں کو مدد مل رہی ہے اور بیٹرز بھی اچھے شاٹس کھیل پا رہے ہیں۔ گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والی نوک جھونک پر ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ایسا چلتا رہتا ہے اور وہ نہیں سمجھتے کہ یہ کوئی سیریس معاملہ تھا۔
سعود شکیل کی حالیہ فارم کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسد شفیق نے کہا کہ ہر بیٹر کے کیریئر میں ایسا وقت آتا ہے، لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں سعود کا مجموعی ریکارڈ شاندار ہے اور ہمیں اس مشکل وقت میں ان کو سپورٹ کرنا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں بیٹرز سے سنچریوں کی امید ہوتی ہے جو فی الحال نہیں ہو پا رہیں، اور پوری ٹیم اس خامی کو دور کرنے پر کام کر رہی ہے۔ بیٹنگ کوچ نے اصرار کیا کہ کریز پر رضوان اور ساجد خان کی موجودگی میں پاکستان ٹیم ہدف حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔