ڈرگ ڈیلر خاتون کے ویڈیو میں نام لینے پر راجہ پرویز اشرف شدید برہم

image

”18 مئی کو ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک خاتون مجھے ڈرگ کیس سے جوڑ رہی تھی۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ آخر یہ کون سا راجہ پرویز اشرف ہے جس کا نام لیا جا رہا ہے؟ بعد میں اسی خاتون نے بیان دیا کہ اُس سے زبردستی یہ سب کہلوایا گیا۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی شخص کو مکمل تحقیقات سے پہلے مجرم نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ ہر پاکستانی کو انصاف اور شفاف تفتیش کا حق حاصل ہے۔“

سابق وزیرِ اعظم اور راجہ پرویز اشرف نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک مبینہ ڈرگ کیس ویڈیو پر قومی اسمبلی میں سخت ردِعمل دیتے ہوئے معاملے کو سنجیدہ قرار دے دیا۔ ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بغیر تحقیق کسی کا نام اچھال دینا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس سے لوگوں کی عزت اور ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ بعد میں متعلقہ خاتون کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ اُس سے دباؤ ڈال کر بیان ریکارڈ کروایا گیا تھا، جس کے بعد پورا معاملہ مزید مشکوک ہوگیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے حساس مقدمات کو تحقیق مکمل ہونے سے پہلے سوشل میڈیا کی زینت نہ بنایا جائے کیونکہ اس سے عوام میں غلط فہمیاں پھیلتی ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اعظم نذیر تارڑ نے بھی ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو ہدایات دی جائیں گی کہ ملزمان کو عدالت میں پیشی سے قبل میڈیا کے سامنے نہ لایا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے متاثر نہ ہوں۔

دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سوال اٹھایا کہ کیا سائبر کرائم اداروں کو سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کرنی چاہیے؟ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ منشیات نوجوان نسل تک کیسے پہنچ رہی ہیں اور اس کے پیچھے کون لوگ موجود ہیں۔

ایوان میں گفتگو کے دوران اعظم نذیر تارڑ نے یہ بھی کہا کہ پورا ایوان راجہ پرویز اشرف کے ساتھ کھڑا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس کے دوران بتایا کہ الزام لگانے والے وی لاگر کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر مصدقہ معلومات، کردار کشی اور قبل از وقت فیصلوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US