ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بیرونی خطرات کے پیشِ نظر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جنگ شروع کی گئی تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے سے باہر تک پھیل جائیں گے۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ گزشتہ جنگ میں انہوں نے اپنی تمام صلاحیتیں استعمال نہیں کی تھیں، لیکن اب اگر ایران کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو ان کی نئی علاقائی اور غیر علاقائی صلاحیتیں فوری طور پر فعال کر دی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی طاقت سوشل میڈیا پر کھوکھلے بیانات کی صورت میں نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں دکھائیں گے۔ اس حوالے سے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دوبارہ جارحیت کی گئی تو جنگی تجربات کی روشنی میں ایسا ردعمل دیا جائے گا جو سب کو حیران کر دے گا۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل اور امریکا کی جانب سے دباؤ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں ممکنہ نئی جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بیان دیا ہے کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے صرف چند دن باقی ہیں، ورنہ امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسی تناظر میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک اعلیٰ سیکیورٹی اجلاس طلب کیا جس میں فوج اور فضائیہ کے سربراہان سمیت اہم دفاعی حکام نے شرکت کی اور ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں اسرائیلی دفاعی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔