اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سینیٹ ملازم حمزہ خان قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق ایس پی عارف حسین شاہ کو سزائے موت کی سزا سنا دی۔
اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا، جس کے مطابق مجرم عارف حسین شاہ کو 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
عدالت نے کیس کے دیگر دو شریک ملزمان صابر شاہ اور ثقلین کو عمر قید کی سزا سنائی، جبکہ دونوں پر 20، 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مقتول حمزہ خان کو اغواء کے بعد قتل کیا گیا تھا، جبکہ اس کی لاش ملزم عارف حسین شاہ کے آبائی گھر مانسہرہ سے برآمد ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ اس واقعے کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ سینیٹ کے سیکیورٹی اسسٹنٹ حمزہ خان کو ستمبر 2021 میں اسلام آباد سے اغوا کیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران ان کی لاش سابق ایس پی عارف شاہ کے آبائی علاقے مانسہرہ میں واقع گھر سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق مقتول حمزہ اور مجرم عارف شاہ کے درمیان زمین کا تنازع چل رہا تھا۔ حمزہ خان کے بھائی وقار کی مدعیت میں تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ڈی آئی جی اسلام آباد جواد طارق نے 2025 میں پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ تفتیش میں سامنے آیا کہ حمزہ کا آخری رابطہ عارف شاہ سے تھا۔ ایس پی سی ٹی ڈی کی سربراہی میں بننے والی تحقیقاتی ٹیم نے ملزمان کو گرفتار کر کے چالان عدالت میں پیش کیا تھا۔
کیس کی مجموعی طور پر 40 سے زائد سماعتیں ہوئیں۔ پراسیکیوشن نے عدالت میں ٹھوس شواہد پیش کیے، جس کے بعد عدالت نے سزائیں سنائیں۔