پاکستانی سفارتکار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیمیں، اور مجید بریگیڈ بھارتی پراکسی کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں، اور بھارت خطے میں دہشت گردی کی معاونت میں ملوث ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت سرحد پار کارروائیوں اور افغانستان کی سرزمین سے حملوں کی سہولت کاری میں بھی ملوث ہے جبکہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر اور ہدفی کارروائیاں کی ہیں۔
انہوں نے افغان حکام کے الزامات کو ایک منظم پروپیگنڈا مہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے جہاں شہریوں کو گرفتاریوں اور بے دخلیوں کا سامنا ہے۔
پاکستانی نمائندے نے بھارت میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔