پشاور ہائی کورٹ نے فوجداری نظام انصاف سے متعلق ایک لارجر بینچ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور حکام کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے چیف سیکریٹری سے فیصلے پر عملدرآمد میں تاخیر پر استفسار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ تقریباً 40 ملین آبادی کا صوبہ مشکلات کا شکار ہے لیکن کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ ڈی این اے کے نمونے لاہور بھجوائے جا رہے ہیں، جبکہ صوبے میں فرانزک سہولیات اور جدید لیبارٹریز کی کمی موجود ہے۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی، جس میں چیف سیکریٹری، ایڈووکیٹ جنرل اور محکمہ داخلہ، خزانہ، انتظامیہ اور قانون کے حکام پیش ہوئے۔
چیف سیکریٹری نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ معاملے کا جائزہ لے کر ایک ماہ میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔ بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت یکم جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔