مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان نئے بجٹ کے حوالے سے مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے این ایف سی ایوارڈ میں براہِ راست ترمیم کے بجائے متبادل تجاویز پیش کی ہیں، جس کے بعد دفاعی بجٹ، کسٹمز ڈیوٹی اور وسائل کی تقسیم کے نئے فارمولے پر لچک پیدا ہوئی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے تعلیم اور صحت کے شعبوں کو دوبارہ وفاق کے سپرد کرنے کے معاملے پر مزید مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے۔ یہ دونوں شعبے 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق اختیارات اور فنڈز کی تقسیم پر بھی بات چیت جاری ہے، جبکہ پروگرام کو صوبوں کے حوالے کیے بغیر فنڈنگ فارمولا تبدیل کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
مسلم لیگ (ن) نے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ترقیاتی فنڈز سے متعلق سفارشات کو آئندہ بجٹ کا حصہ بنانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ پیپلز پارٹی کا تیار کردہ ورکنگ پیپر بھی تفصیلی مشاورت میں شامل کیا جائے گا۔
مزید برآں، پیپلز پارٹی نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے اضافی فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 28 ویں آئینی ترمیم سے متعلق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان پس پردہ رابطے جاری ہیں اور توقع ہے کہ بجٹ کی منظوری کے بعد آئینی اور مالی امور پر مزید پیش رفت ہوسکتی ہے۔