بچپن میں روسی صدر سے ملاقات کرنے والے بچے کی زندگی کیسے بدلی؟

image

26 سال پہلے چین کے ایک پارک میں ہونے والی مختصر سی ملاقات نے ایک بچے کی زندگی کا رخ بدل دیا، اور اب برسوں بعد وہی بچہ ایک کامیاب انجینئر بن کر دوبارہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے سامنے موجود تھا۔

سن 2000 میں جب ولادیمیر پیوٹن پہلی بار روس کے صدر بننے کے بعد چین کے دورے پر بیجنگ پہنچے تو انہوں نے اچانک بیہائی پارک جانے کا فیصلہ کیا۔ یہ دورہ پہلے سے طے شدہ نہیں تھا اور نہ ہی پارک کو عوام کے لیے بند کیا گیا تھا۔ پارک میں جھیل کی سیر کے دوران ان کی نظر ایک 12 سالہ بچے پینگ پائی پر پڑی جو اپنے والد کی بانہوں میں کھڑا جھیل کا منظر دیکھ رہا تھا۔

روسی صدر بچے کے قریب گئے اسے گود میں اٹھایا، پیشانی پر بوسہ دیا اور اس سے روسی زبان میں مختصر بات چیت بھی کی۔ اس لمحے کی تصویر بعد میں چینی میڈیا میں شائع ہوئی اور پینگ پائی کے خاندان نے بھی اسے یادگار کے طور پر محفوظ رکھا۔

وقت گزرتا گیا مگر وہ ایک تصویر اور مختصر ملاقات پینگ پائی کے ذہن میں ہمیشہ زندہ رہی۔ اسی واقعے نے ان کے تعلیمی سفر کو نئی سمت دی۔ بعد میں انہوں نے روس میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور روسی حکومت کی اسکالرشپ پر ماسکو آٹو موبائل اینڈ روڈ کنسٹرکشن اسٹیٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی۔

اب 38 سالہ پینگ پائی ایک سینئر انجینئر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور چین کے صوبہ ہونان میں ایک سرکاری تعمیراتی کمپنی کے انجینئرنگ ٹیکنالوجی شعبے کی سربراہی کر رہے ہیں۔

حال ہی میں روسی صدر کے دو روزہ دورۂ چین کے دوران ایک بار پھر دونوں کی ملاقات ہوئی۔ اس مرتبہ پیوٹن نے پینگ پائی کو خصوصی طور پر مدعو کیا۔ ملاقات بیجنگ کے سرکاری مہمان خانے میں ہوئی جہاں روسی صدر نے ان کے روس میں تعلیم حاصل کرنے کے فیصلے کو سراہا۔

ملاقات کے دوران دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا، تحائف کا تبادلہ کیا اور پیوٹن نے 26 سال پرانی تصویر پر اپنے دستخط بھی کیے۔

پینگ پائی اس سے قبل ایک انٹرویو میں کہہ چکے تھے کہ وہ روسی صدر کو اپنے بچپن کے مہربان انکل کے طور پر یاد کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ایک دن دوبارہ ان سے ملاقات ضرور ہوگی۔ برسوں بعد ان کی یہ خواہش حقیقت بن گئی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US