مغربی بنگال میں بیف ریستورانوں کے مینو سے غائب، تاجروں اور کسانوں میں تشویش

image

بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں بیف سے تیار کیے جانے والے پکوان ریستورانوں کے مینو سے تیزی سے ہٹائے جا رہے ہیں۔ بی جے پی کی انتخابی کامیابی کے بعد مویشیوں کے ذبح پر سخت پابندیوں اور سپلائی بحران نے ریستوران مالکان، تاجروں اور کسانوں کو پریشان کر دیا ہے۔

کولکتہ کے متعدد معروف ریستورانوں نے بیف اسٹیک، بیف بریانی اور دیگر بیف ڈشز مینو سے ہٹانا شروع کر دی ہیں۔ ریستوران مالکان کا کہنا ہے کہ بیف کی سپلائی تقریباً ختم ہو چکی ہے جبکہ سیاسی ماحول کے باعث خوف بھی پایا جاتا ہے۔

بی جے پی نے مغربی بنگال میں حکومت سنبھالنے کے بعد ایک پرانے قانون پر عملدرآمد شروع کیا ہے، جس کے تحت گائے، بیل اور بھینس کے عوامی ذبح پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اب ذبح کیے جانے والے جانور کے لیے سرکاری سرٹیفکیٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

کولکتہ کے معروف ریستوران ’شیخز‘ نے بیف ڈشز مستقل طور پر بند کرنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ دیگر ریستورانوں نے بھی سپلائی بحال نہ ہونے کی صورت میں یہی فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

دوسری جانب مویشی پالنے والے کسانوں اور تاجروں نے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ سے قبل کاروبار شدید متاثر ہوا ہے اور جانور پالنا مشکل بنتا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت میں گائے کو ہندو مذہب میں مقدس سمجھا جاتا ہے، جبکہ مسلمان، عیسائی اور بعض دیگر طبقات بیف کو سستی خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US