امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر پیٹرولیم لیوی اور بھاری ٹیکسز کے خلاف آج ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کے مطابق نمازِ جمعہ کے بعد تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل کر احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پیٹرول پر 117 روپے لیوی اور 50 روپے ٹیکس کے ذریعے غریب عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے جبکہ حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں برقرار رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک عوام اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نہیں نکلیں گے آئی پی پیز اور اشرافیہ ملک کو لوٹتے رہیں گے۔ انہوں نے تاجروں، صنعت کاروں، کسانوں اور نوجوانوں سے احتجاج میں بھرپور شرکت کی اپیل بھی کی۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر راولپنڈی میں مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
جمعیت علمائے اسلام ضلع راولپنڈی کے زیرِ اہتمام نکالا جانے والا ”مہنگائی مارچ“ جامعہ مسجد دارالعلوم سے شروع ہو کر فوارہ چوک تک پہنچا، جس میں جے یو آئی کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے مہنگائی، پٹرولیم قیمتوں میں اضافے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی رہنما ڈاکٹر ضیاء الرحمان نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل بنا دیا ہے اور حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قائد ملت اسلامیہ مولانا فضل الرحمان کے حکم پر ملک بھر میں احتجاج جاری ہے اور عوامی حقوق کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز ماضی میں مہنگائی مارچ میں شریک ہوتی تھیں لیکن آج حکومت میں آ کر خاموش ہیں۔
ڈاکٹر ضیاء الرحمان نے مزید کہا کہ اگر قائدِ جمعیت کی جانب سے حکم دیا گیا تو اسلام آباد کی جانب بھی مارچ کیا جائے گا۔ احتجاج کے دوران جے یو آئی کارکنان راجہ بازار میں بھی جمع ہوئے اور مہنگائی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔