عالمی ٹیکنالوجی کمپنی Meta نے مصنوعی ذہانت پر بڑھتی ہوئی توجہ کے پیش نظر بڑے پیمانے پر تنظیمِ نو کا فیصلہ کرتے ہوئے ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی نے حالیہ مہینوں میں اپنی نئی اے آئی حکمتِ عملی کے تحت اندرونی سطح پر ری اسٹرکچرنگ شروع کر دی ہے، جس کے دوران مختلف ٹیموں کو مصنوعی ذہانت سے متعلق منصوبوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 8 ہزار ملازمین کو ملازمتوں کے خاتمے سے متعلق آگاہ کیا جا چکا ہے جبکہ سائبر سیکیورٹی اور کانٹینٹ ڈیزائن کے شعبے اس فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ میٹا اب زیادہ چھوٹی، تیز رفتار اور اے آئی فوکسڈ ٹیمیں تشکیل دینا چاہتی ہے تاکہ فیصلے زیادہ مؤثر اور فوری انداز میں کیے جا سکیں۔
مزید رپورٹس کے مطابق کمپنی اب تک تقریباً 7 ہزار ملازمین کو اے آئی سے متعلق مختلف ٹیموں میں منتقل کر چکی ہے جبکہ رواں سال اے آئی انفراسٹرکچر پر 100 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے ملازمین کو بھیجے گئے پیغام میں کہا ہے کہ رواں سال مزید بڑے پیمانے پر برطرفیوں کا امکان نہیں، تاہم مخصوص شعبوں میں محدود کٹوتیاں جاری رہ سکتی ہیں۔