بھارت کے دارالحکومت دہلی سے ایک نوجوان خاتون وینا کماری کی پراسرار موت نے ایک بار پھر جہیز کے نام پر ہونے والے تشدد اور گھریلو تنازعات کو بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 28 سالہ وینا کماری کی موت نے اس کے اہلِ خانہ کو شدید صدمے سے دوچار کردیا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق وینا کے شوہر راجو سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ عمارت کی تیسری منزل سے گر کر جاں بحق ہوئی، تاہم مقتولہ کے گھر والوں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اسے جہیز کے لیے مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور بالآخر اسے قتل کیا گیا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ 18 مئی کی رات وینا نے اپنی بہن رینا کو فون کر کے روتے ہوئے بتایا تھا کہ اسے بری طرح مارا جا رہا ہے اور وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ اس نے اپنی 6 ماہ کی بیٹی کی ذمہ داری بھی بہن کو سونپنے کی بات کی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد کال منقطع ہو گئی اور چند منٹ بعد ہی خاندان کو اطلاع ملی کہ وہ چھت سے گر گئی ہے۔
خاندان نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ وینا کی شادی 3 سال قبل راجو سنگھ سے ہوئی تھی اور اس دوران اسے مسلسل جہیز کے مطالبات کا سامنا رہا، جن میں مبینہ طور پر موٹرسائیکل جیسی ڈیمانڈز بھی شامل تھیں۔ اہلِ خانہ کے مطابق ماضی میں تشدد کے باعث اس کے کان کا پردہ بھی متاثر ہوا تھا۔
دوسری جانب سسرالی خاندان نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی جہیز کا مطالبہ نہیں کیا۔ پولیس نے ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے واقعے کو مشکوک موت قرار دیا تھا تاہم بعد ازاں جہیز سے متعلق الزامات کے تحت مقدمہ درج کر کے شوہر اور دیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ واقعہ بھارت میں جہیز کے باعث ہونے والی اموات کے ایک بڑے اور مسلسل جاری مسئلے کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔ مختلف اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر سال ہزاروں خواتین جہیز کے تنازعات، گھریلو تشدد یا مشتبہ حالات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈز کے مطابق 2024 میں جہیز سے متعلق 5 ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہوئیں، جبکہ روزانہ درجنوں خواتین اس مسئلے کا شکار بنتی ہیں۔
اگرچہ گزشتہ دہائی میں ان واقعات میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے، تاہم اتر پردیش، بہار، مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں میں یہ مسئلہ اب بھی سنگین شکل اختیار کیے ہوئے ہے، جہاں نہ صرف اموات بلکہ تشدد اور مقدمات کی بڑی تعداد بھی رپورٹ ہو رہی ہے۔
حالیہ واقعات، جن میں دہلی، بھوپال اور نوئیڈا میں مشتبہ اموات شامل ہیں، نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ قانونی اقدامات کے باوجود جہیز کے نام پر خواتین کا استحصال مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا اور متاثرہ خاندانوں کو اب بھی انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔