بھوک، غربت اور بے بسی: افغانستان میں والدین بچوں کو بیچنے پر مجبور

image

افغانستان اس وقت بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے جہاں غربت، بھوک اور بے روزگاری نے ہزاروں خاندانوں کو ٹوٹنے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ صوبہ غور کے دارالحکومت چغچران میں ہر صبح سینکڑوں مزدور روزگار کی امید میں سڑک کنارے جمع ہوتے ہیں، مگر بیشتر کو خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے۔ چند گھنٹوں کے انتظار کے بعد اگر کسی کو کام مل بھی جائے تو اتنی معمولی اجرت ملتی ہے کہ گھر کا گزارا ممکن نہیں رہتا۔

45 سالہ جمعہ خان بھی انہی مزدوروں میں شامل ہیں جنہیں چھ ہفتوں میں صرف چند دن کام نصیب ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی بار ان کے بچے مسلسل بھوکے سوتے رہے اور مجبوری میں انہیں پڑوسیوں سے آٹا ادھار مانگنا پڑا۔ ان کے مطابق سب سے بڑا خوف یہی ہے کہ کہیں ان کے بچے بھوک سے نہ مر جائیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کی بڑی آبادی بنیادی ضروریات سے محروم ہے جبکہ لاکھوں افراد قحط جیسے حالات کا شکار ہیں۔ امدادی سرگرمیاں کم ہونے، خشک سالی اور معاشی تباہی نے صورتحال مزید سنگین بنا دی ہے۔ کئی خاندان اب انتہائی خوفناک فیصلے کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

عبدالرشید عظیمی نامی ایک شخص نے غربت سے تنگ آ کر اپنی کم سن بیٹیوں کو فروخت کرنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ باقی بچوں کو چند سال تک کھانا کھلا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ بچوں کی بھوک اور بے بسی دیکھنا ان کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ اسی طرح ایک اور باپ سعید احمد نے اپنی پانچ سالہ بیٹی کی جان بچانے کے لیے اس کی کم عمری میں شادی طے کر دی تاکہ علاج کے اخراجات پورے کیے جاسکیں۔ ان کی بیٹی شدید بیماری میں مبتلا تھی اور علاج کے لیے رقم نہ ہونے پر انہوں نے رشتہ دار سے مالی مدد کے بدلے مستقبل کی شادی پر رضامندی ظاہر کردی۔

افغانستان میں کم عمری کی شادیوں اور لڑکیوں کی فروخت جیسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ طالبان حکومت کی خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندیاں بھی ہیں۔ خاندانوں کو امید ہوتی ہے کہ لڑکے بڑے ہو کر کما سکیں گے جبکہ لڑکیوں کو مالی بوجھ سمجھا جانے لگا ہے۔

صورتحال صرف گھروں تک محدود نہیں بلکہ اسپتالوں میں بھی تباہ کن مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ چغچران کے سرکاری اسپتال میں غذائی قلت کا شکار نومولود بچوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کئی بچے کم وزن، نمونیا اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں جبکہ ادویہ اور طبی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ بعض اوقات ایک ہی دن میں کئی بچوں کی اموات ہو جاتی ہیں۔

ایک خاندان کی قبل از وقت پیدا ہونے والی جڑواں بچیوں میں سے ایک مناسب علاج نہ ملنے کے باعث دم توڑ گئی جبکہ دوسری کو بھی غربت کی وجہ سے گھر واپس لے جانا پڑا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ بہت سے بچوں کو بچانے میں ناکام رہتے ہیں۔

امریکا اور دیگر ممالک کی جانب سے امداد میں بڑی کمی کے بعد افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ طالبان حکومت سابقہ نظام اور غیر ملکی انخلا کو ذمہ دار قرار دیتی ہے، تاہم عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ پابندیاں اور پالیسیوں نے بھی ملک کو تنہائی اور بدحالی کی طرف دھکیل دیا ہے۔

آج افغانستان کے کئی علاقوں میں والدین کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ بچوں کا مستقبل کیا ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ آیا ان کے بچے اگلا دن زندہ بھی دیکھ سکیں گے یا نہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US