پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتِ سندھ کو صنعتکاروں کی جانب سے کراچی کی ترقی کیلیے وصول کیے گئے اربوں روپے کے استعمال پر سخت سوالات کا سامنا ہے۔
صنعتکاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کی مد میں تقریباً 1500 ارب روپے وصول کیے گئے، تاہم یہ رقم شہر کی ترقی پر واضح طور پر خرچ ہوتی نظر نہیں آئی۔
سابق نائب صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری شبیر منشا نے کہا کہ اگر یہ رقم کراچی پر خرچ کی جاتی تو اس کے اثرات واضح طور پر نظر آتے۔ ان کے مطابق کراچی اس وقت ایڈہاک بنیادوں پر چل رہا ہے اور حکومت اس وقت حرکت میں آتی ہے جب کوئی بڑا حادثہ پیش آتا ہے۔
صنعتکاروں نے صوبائی حکومت سے اس فنڈ کے استعمال پر تفصیلی وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کی ترقی کیلیے مختص رقوم کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے۔