آئل مارکیٹنگ کے شعبے میں نجی کمپنی کے خلاف مبینہ میگا کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل نے اوگرا کے ممبر آئل کو تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے کال اپ نوٹس جاری کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات قومی خزانے کو مبینہ نقصان پہنچانے، ریگولیٹری اختیارات کے غلط استعمال اور پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر چھپانے سے متعلق الزامات پر جاری ہیں۔
ایف آئی اے نے زین العابدین کو 25 مئی کو صبح 9 بجے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے، جبکہ انہیں تمام متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات ساتھ لانے کا بھی کہا گیا ہے۔
تحقیقات میں مبینہ فراڈ، ریگولیٹری اہلکاروں اور ٹرمینل آپریٹرز کی ملی بھگت سے غلط رپورٹنگ کے الزامات بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئل سپلائی چین، اسٹاک مانیٹرنگ اور قیمتوں کے نظام کی نگرانی ممبر آئل کی ذمہ داریوں میں شامل تھی۔
ایف آئی اے نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی سے کلیمز، انسپیکشن رپورٹس، ٹرمینلز کے معائنے کا ریکارڈ، شوکاز نوٹسز اور اہم انتظامی فیصلوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے باعث پٹرولیم سیکٹر اور سرکاری حلقوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے جبکہ مزید اہم شخصیات کو بھی طلب کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔