کوئٹہ میں چمن پھاٹک پر ٹرین کے قریب ہونے والے دھماکے میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
بلوچستان کے ایک اعلیٰ پولیس افسر اور سول انتظامیہ کے عہدیدار نے ابتدائی طور پر 20 افراد جاں بحق اور 70 زخمی ہونے کی تصدیق کی، تاہم بعدازاں صورتحال واضح ہونے کے بعد بتایا گیا کہ مذکورہ واقعہ میں 14 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہیں، جن میں سے بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ حکام کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب سے گزر رہی تھی۔
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق کوئٹہ کینٹ سے سٹی ریلوے اسٹیشن جانے والی شٹل ٹرین دھماکے کی زد میں آئی، جس کے نتیجے میں انجن سمیت تین بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو بوگیاں الٹ گئیں۔
انہوں نے واقعے کو بزدلانہ دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔
ریلوے حکام کے مطابق شٹل ٹرین میں سوار مسافروں کو کینٹ اسٹیشن سے سٹی اسٹیشن منتقل کیا جا رہا تھا، جہاں سے انہیں جعفر ایکسپریس کے ذریعے مختلف شہروں کی جانب روانہ ہونا تھا۔ متاثرہ مسافروں میں زیادہ تر سرکاری ملازمین شامل تھے جو عید کی تعطیلات کے لیے اپنے آبائی علاقوں کو جا رہے تھے۔
کالعدم بی ایل اے نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی
دوسری جانب کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان کے مطابق حملے میں کوئٹہ کینٹ سے فوجی اہلکاروں کو لے جانے والی ٹرین کو نشانہ بنایا گیا۔