اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے پاکستانی امدادی کارکن سعد ایدھی واپس وطن پہنچ گئے ہیں، جہاں کراچی ایئرپورٹ پر ان کی اہلیہ، کمسن بیٹی اور ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر گزشتہ سال اسرائیلی قید سے رہا ہونے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی استقبال کے لیے ایئرپورٹ پر موجود تھے۔
وطن واپسی پر سعد ایدھی نے دورانِ قید اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے جانے والے شدید غیر انسانی سلوک کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ قیدیوں پر شدید ذہنی و جسمانی تشدد کیا جاتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ راتوں کو سونے سے روکنے کے لیے آنکھوں پر لیزر لائٹیں ماری جاتی تھیں اور بیرکوں کے فرش پر پانی ڈال دیا جاتا تھا تاکہ کوئی بیٹھ یا لیٹ نہ سکے۔ اس کے علاوہ قیدیوں کو گھٹنوں کے بل بٹھا کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ سعد ایدھی کے مطابق، جن امدادی کارکنوں کے پاس امریکا یا یورپ کے پاسپورٹ نہیں تھے، انہیں خاص طور پر زیادہ تشدد اور ناروا سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ سعد ایدھی غزہ کا بحری محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے بین الاقوامی امدادی مشن "صمود فلوٹیلا" کا حصہ تھے، جسے اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی سمندر میں روک کر تمام امدادی کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا۔